اڈپی 16؍جنوری (ایس او نیوز) ملپے بندرگاہ سے مچھلیوں کے شکار پر نکلنے کے بعدماہی گیروں سمیت لاپتہ ہونے والی کشتی کی تلاش میں تمام کوششیں ناکام ہوجانے کے بعد اب پتہ چلا ہے کہ انڈین نیوی کی طرف سے جنگی جہاز کاسہارالیا جائے گاجس میں ’سونار‘ ٹیکنالوجی کا استعمال ہوتا ہے۔
اہم ذرائع سے ملنے والی تازہ خبروں کے مطابق مہاراشٹرا کے سندھو درگ علاقے میں 40تا45ناٹیکل میل کے فاصلے پر پُراسرا ر حالات میں گم ہوجانے والی ‘سوورنا تریبھوجا‘ نامی کشتی کے بارے میں تحقیقاتی ٹیم کا اب یہی خیال ہے کہ یہ کشتی سمندر میں کسی حادثے کا شکار ہوکر ڈوب گئی ہوگی۔ اب اس کا پتہ لگانے کے لئے جنگی جہاز’آئی این ایس کوچی‘ کا استعمال کیاجائے گا۔ جوساؤنڈ نیوی گیشن کیSONAR ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ تلاش کرنے والا جہاز ایک خاص فریکوینسی کی لہریں سمندر کی تہہ میں بھیجتا ہے اور ان لہروں کے واپس لوٹنے میں جو وقفہ لگتا ہے اس کا جائزہ لے کر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ سمندر کی تہہ میں کس مقام پر کوئی بڑی چیز موجود ہے ۔البتہ تحقیقاتی افسران یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس طرح کی تلاشی میں کسی نتیجے پر پہنچنے کے لئے کتنا وقت درکار ہوگا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل یہ گمان پیش کیا جارہا تھا کہ سندھودرگ کے علاقے میں کشتی اور ماہی گیروں کو اغوا کرلیا گیا ہے اور وہ وہاں پر مقید ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اگر واقعی کشتی سمندر میں غرق ہوبھی گئی ہے تو پھر اس پر موجود سامان اور ماہی گیروں کا آخر کیا ہوگیا ہوگا۔